گرفتاری سے بچنے کے لیے ٹک ٹاکر مخدوم جنید جانی نے خواتین کو سڑک پر برہنہ کردیا

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سکھر نے ٹک ٹاکر مخدوم جنید عرف بشیر احمد کو صوبائی دارالحکومت کراچی میں ایک ڈرامائی آپریشن کے دوران گرفتار کر لیا۔
ملزم پر ہنی ٹریپ کے ذریعے بلیک میلنگ اور کروڑوں روپے ہتھیانے کے الزامات ہیں۔ یہ واقعہ سہراب گوٹھ سے کراچی یونیورسٹی جانے والے راستے پر ابوالحسن اصفہانی روڈ کے قریب پیش آیا۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق خفیہ اطلاع پر عمل کرتے ہوئے ایجنسی کی ٹیم انسپکٹر الفت سوڈر کی قیادت میں، ملزم کو گرفتار کرنے کراچی پہنچی، جہاں ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور انہیں برہنہ ہونے کا بھی کہا۔
حکام کے مطابق مخدوم جنید کے خلاف شکارپور کے رہائشی عبد الصبار بن عبدالصمد میمن کی فریاد پر کارروائی کی گئی، متاثرہ شخص کے مطابق ان سے ایڈٹ شدہ قابل اعتراض ویڈیوز کے ذریعے 44 لاکھ روپے بٹورے جا چکے ہیں۔
گرفتاری کے دوران ملزم نے اپنی رشتہ دار خواتین کو مزاحمت کے لیے آگے کیا، جنہوں نے کپڑے اتار کر سڑک پر ہنگامہ کیا اور واقعہ کی لائیو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
گرفتاری کے لیے آپریشن اور مزاحمت
این سی سی آئی اے کی ٹیم جب ملزم کو گرفتار کرنے پہنچی تو مخدوم جنید نے بھاگنے کی کوشش کی اور رشتہ دار خواتین کو کپڑے اتار کر ہنگامہ کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے گرفتاری کے وقت اپنے فیس بک پر براہ راست ویڈیو بھی چلائی، جسے بعد ازاں ڈیلیٹ کردیا گیا، مذکورہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین سڑک پر ملزم کے پیچھے بھاگ رہی ہیں اور وہ انہیں سندھی زبان میں کپڑے اتار کر بھاگنے کا کہتے ہیں۔
راجپوت اسپتال کے قریب ملزم نے قصائی کا ٹوکہ اٹھا کر ایک ایف آئی اے اہلکار پر حملہ کیا، جس سے اہلکار شدید زخمی ہوگیا لیکن بعد ازاں قریبی سچل تھانے کی پولیس موبائل کی مدد سے این سی سی آئی اے نے ملزم کو گرفتار کر لیا، اس کے علاوہ، تین خواتین، فہمیدہ مخدوم، غزالہ، اور کائنات، کو بھی گرفتار کیا گیا۔ تمام ملزمان کو این سی سی آئی اے کے کراچی دفتر منتقل کر دیا گیا۔
مقدمے کے اندراج، تفتیش اور شواہد
این سی سی آئی اے نے انکوائری نمبر 182/2025 کے تحت جو یکم اگست 2025 کو رجسٹرڈ کی گئی، تفتیش شروع کردی۔
شکایت کنندہ کے بیان، ڈیجیٹل شواہد جیسا کہ قابل اعتراض پوسٹس کے اسکرین شاٹس، دھمکی آمیز پیغامات، اور بینک ریکارڈز سے ملزم کی سرگرمیوں کی تصدیق ہوئی۔
بینک ریکارڈز سے ثابت ہوا کہ رقم مخدوم بشیر احمد کے نام سے رجسٹرڈ اکاؤنٹس میں جمع ہوئی، جو شاہ نواز مخدوم کے بیٹے ہیں اور شہباز کالونی، کنڈیارو، ضلع نوشہرو فیروز میں رہائش پذیر ہیں۔
ملزم نے متعدد نوٹسز کے باوجود پیش ہونے سے انکار کیا اور تفتیش میں شامل نہیں ہوا، تفتیش سے پتہ چلا کہ مخدوم جنید ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کا حصہ ہے جو لوگوں کو ہراساں کرنے، دھونس جمانے، اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے بڑی رقوم بٹورنے میں ملوث ہے، اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے عادی مجرمانہ رویے کا نمونہ سامنے آیا۔
ملزم بشیر احمد عرف مخدوم جانی جنید اور دیگر کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات 13، 14، 20، 21، 24، اور 26-A کے تحت، ترمیمی ایکٹ 2025 کے ساتھ ساتھ پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی ) کی دفعات 383، 420، 468، 471، 506/B، اور 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، یہ مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ دیگر ملوث افراد کے کردار کی تفتیش جاری ہے۔
واقعے کا پس منظر
شکایت کنندہ عبد الصبار کے مطابق جولائی 2025 میں ایک نامعلوم خاتون نے فیس بک میسنجر کے ذریعے رابطہ کیا اور
خود کو ریشماں کے نام سے متعارف کرایا، بعد ازاں انہوں نے واٹس ایپ پر رابطہ جاری رکھا اور ایک مختصر ویڈیو کال کی۔
ایف آئی آر کے مطابق بعد ازاں ملزم مخدوم جنید نے اسی نمبر سے رابطہ کر کے ایڈٹ شدہ قابل اعتراض ویڈیو بھیجی اور 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، اس ویڈیو نے عبد الصبار کو شدید ذہنی دباؤ اور شرمندگی میں مبتلا کیا، ملزم نے مختلف بینک اور برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس کے ذریعے 44 لاکھ روپے وصول کیے۔
جب عبد الصبار مزید 70 لاکھ روپے دینے سے قاصر رہے تو ملزم نے 2 اگست 2025 کو ایڈٹ شدہ ویڈیو اپنے فیس بک اکاؤنٹ ’مخدوم جانی جنید‘ (URL: https://web.facebook.com/Janijunaid420) پر پوسٹ کر دی۔
اس کے بعد سے ملزم نے مسلسل شکایت کنندہ اور ان کے خاندان کے خلاف فحش اور توہین آمیز مواد پوسٹ کیا۔