سندھ بھر میں کینسر کے مریض سرکاری علاج و سہولیات سے محروم

سندھ بھر میں کینسر کے مریضوں کے لیے سرکاری سطح پر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کسی بڑے سرکاری اسپتال میں بریسٹ کینسر کے لیے میموگرافی دستیاب نہیں، صوبائی سطح پر کینسر رجسٹری اور مستند ڈیٹا بھی موجود نہیں۔
صوبائی دارالحکومت کراچی کے دو بڑے سرکاری مراکز—جناح اسپتال (ریڈی ایشن) اور سول اسپتال (کیموتھراپی)—میں سہولیات محدود ہیں اور مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ضلعی سرکاری اسپتالوں میں آنکالوجی او پی ڈی تک میسر نہیں۔
ماہرین کے مطابق ملک میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد نئے کینسر کیسز سامنے آتے ہیں، صوبائی دارالحکومت کراچی میں سالانہ اندازاً 20 ہزار نئے مریض رپورٹ ہوتے ہیں۔ خواتین میں بریسٹ کینسر جبکہ مردوں میں منہ/حلق کے کینسر کے کیسز زیادہ ہیں؛ دیہی سندھ میں ماوا اور گٹکے کے استعمال نے منہ کے کینسر میں اضافہ کیا ہے۔ ماہر آنکالوجسٹ کی تعداد طلب کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
نجی مراکز میں علاج مہنگا ہے: ریڈی ایشن کا ایک سیشن عموماً 15 سے 20 ہزار روپے جبکہ کیموتھراپی اور ادویات کے مجموعی اخراجات لاکھوں روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔ نسبتاً سستا علاج پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مراکز میں ملتا ہے (ملک بھر 19، سندھ میں 5؛ جن میں صوبائی دارالحکومت کراچی کے کرن اسپتال اور جناح کمپلیکس شامل)، مگر یہاں بھی مریضوں کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔
ماہرین اور مریضوں کے مطالبات
سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں فوری طور پر میموگرافی، کیموتھراپی، ریڈی ایشن یونٹس قائم کیے جائیں۔
ہر ضلع میں آنکالوجی او پی ڈی اور ریفرل کا ون ونڈو سسٹم بنایا جائے۔
صوبائی کینسر رجسٹری قائم کر کے ڈیٹا شفاف کیا جائے۔
کینسر ادویات پر سبسڈی اور مستحق مریضوں کے لیے علاج مفت/کم لاگت کیا جائے۔