فوڈ ولاگنگ کے منفی اثر سے سندھ میں تبدیل ہوتا غذائی رجحان

IMG-20250816-WA0000

دیگر خطوں کی طرح سندھ میں بھی کھانے پینے کی عادات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں، کبھی گھر کا سادہ کھانا ہماری صحت اور طرزِ زندگی کی پہچان تھا مگر آج فوڈ ولاگرز، سوشل میڈیا اور غیر معیاری کھانے فروخت کرنے والے ریسٹورنٹس نے یہ تاثر عام کر دیا ہے کہ چکنائی اور مصالحے سے بھرپور فاسٹ فوڈ یا تلے ہوئے کھانے ہی اصل “لائف اسٹائل” ہیں۔ اس رجحان نے جہاں ذائقے کی لت پیدا کی ہے وہیں معاشرے میں صحت کے بحران کو جنم دیا ہے جس کا اعتراف سندھ فوڈ اتھارٹی کی رپورٹوں اور میڈیکل ماہرین کے بیانات میں کھل کر سامنے آ رہا ہے۔

سندھ فوڈ اتھارٹی کی سال 2024 کی رپورٹ کے مطابق صرف دارالحکومت کراچی میں 18 ہزار سے زائد فوڈ آؤٹ لیٹس کا معائنہ کیا گیا جن میں سے لگ بھگ 6 ہزار کو غیر معیاری صفائی، ایکسپائر اشیاء کے استعمال اور ناقص تیل کے بار بار استعمال پر نوٹس جاری کیے گئے۔ صوبے کے دیگر شہروں سندھ حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ جیسے بڑے شہروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق حیدرآباد میں 40 فیصد ہوٹل ایسے پائے گئے جہاں ناقص یا غیر معیاری اجزاء کا استعمال معمول تھا۔

ماہرینِ امراضِ قلب اور غذائیت بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ ایسے کھانے براہِ راست ہائی بلڈ پریشر، ذیابطیس اور دل کی بیماریوں کو بڑھا رہے ہیں۔ ماہر غذائیت ڈاکٹر عافیہ شہزاد کے مطابق کراچی کے اسپتالوں میں ہر مہینے کم از کم دو سو ایسے مریض لائے جاتے ہیں جن کی صحت براہِ راست غیر معیاری اور تلے ہوئے کھانوں کے استعمال سے متاثر ہوئی۔

یہ صورتحال صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ حقیقی انسانی المیوں کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ 2022 میں کراچی کے علاقے کورنگی میں ایک شادی ہال سے کھانا کھانے کے بعد درجنوں افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے، جن میں دو بچے جان کی بازی ہار گئے۔ اسی طرح 2023 میں سکھر میں ایک مدرسے کے طلبہ نے باہر سے منگوائے گئے چکن رول کھائے جس کے نتیجے میں درجنوں بچے اسپتال پہنچے اور کئی دن زیرِ علاج رہے۔ ان کیسز نے یہ واضح کر دیا کہ ناقص اور غیر معیاری کھانے ہماری نئی نسل کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

اس سارے منظرنامے میں سوشل میڈیا کے فوڈ ولاگرز کا کردار نہایت تشویشناک ہے۔ یہ ولاگرز اپنے چینلز پر انہی ہوٹلوں اور کھانے والوں کو پروموٹ کرتے ہیں جو فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان کے ویڈیوز میں نہ کبھی کھانے کی صفائی، اجزاء کے معیار یا صحت پر اثرات کا ذکر ہوتا ہے بلکہ محض ذائقہ، مقدار اور قیمت کو ہی نمایاں کیا جاتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ان ولاگرز کو فالو کرنے کے بعد انہی ہوٹلوں اور فوڈ چینز کو آزمانے پر مائل ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ولاگرز انجانے میں نہیں بلکہ شعوری طور پر ایک ایسے کلچر کو فروغ دے رہے ہیں جس کا نتیجہ بیماریاں اور بڑھتے ہوئے اسپتالوں کے بل ہیں۔

سماجی ماہرین اس رجحان کو “فوڈ کلچر کی بگاڑ” قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے جہاں خاندان گھر کے کھانے پر اکٹھے ہوتے تھے وہاں آج باہر کھانے کا رواج بڑھ گیا ہے اور یہ صرف تفریح نہیں بلکہ لائف اسٹائل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ والدین خود بچوں کو برگر، پیزا اور فرنچ فرائز کی عادت ڈالتے ہیں اور پھر یہی بچے صحت کے مسائل لے کر بڑے ہوتے ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فوڈ ولاگرز کو محض ذاتی فائدے کے لیے قوم کی صحت کے ساتھ کھیلنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ سندھ فوڈ اتھارٹی نے اگرچہ مختلف اوقات میں کارروائیاں کیں مگر ولاگرز کے لیے کسی ضابطہ اخلاق کا فقدان ہے۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ویڈیوز میں نہ صرف ذائقے بلکہ کھانے کے معیار، صحت پر اثرات اور ہوٹل کی صفائی کو بھی شامل کریں۔

پاکستان میں غیر متعدی امراض جیسے دل کے دورے، شوگر اور کولیسٹرول میں اضافہ براہِ راست کھانے کی خراب عادات سے جڑا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً دو لاکھ اموات ایسی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں جن کی جڑیں غیر معیاری کھانے اور طرزِ زندگی میں چھپی ہیں۔ اس پس منظر میں فوڈ ولاگرز کا منفی اثر محض ذائقے تک محدود نہیں بلکہ قومی صحت پر ایک اجتماعی حملہ ہے۔

وقت آگیا ہے کہ حکومت اور فوڈ سیفٹی ادارے نہ صرف ہوٹلوں بلکہ ان ولاگرز کو بھی قانون کے دائرے میں لائیں جو بغیر کسی ذمہ داری کے عوام کو ناقص اور مضرِ صحت کھانوں کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی میڈیا اور تعلیمی اداروں کو بھی یہ شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ ذائقے کی وقتی لذت کے پیچھے ایک پوری نسل کی صحت داو پر لگی ہے۔ بصورت دیگر سندھ ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں فوڈ کلچر کا یہ بگاڑ آنے والے برسوں میں ایک بڑے صحتیاتی المیے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔