سندھ کے دیہات کی خواتین معاشی خودمختاری کی نئی راہوں پر گامزن

آج کے دور میں خواتین کا معاشی طور پر مضبوط اور خود کفی ہونا سندھ کے معاشرے میں صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ سندھ کی خواتین، چاہے وہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہوں یا شہری، صوبے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے خاندانوں کی مالی ضروریات پوری کر رہی ہیں بلکہ معاشی ترقی کی فرنٹ لائن پر بھی موجود ہیں۔ یہ مضمون سندھ کے پس منظر میں ایسی چند باہمت خواتین کی کہانیوں پر روشنی ڈالتا ہے جو اپنی محنت اور عزم سے معاشرے میں تبدیلی لا رہی ہیں۔
مہناز مہر: شکارپور سے ایک متاثر کن کہانی
شکارپور، سندھ کا ایک ضلع، جہاں بدامنی، اغوا برائے تاوان، اور قبائلی جھگڑوں کی خبریں عام ہیں۔ لیکن ان مشکل حالات میں مہناز مہر جیسی خواتین نے ثابت کیا کہ عزم اور ہمت کے سامنے کوئی رکاوٹ بڑی نہیں۔ مہناز، جو شکارپور کے تعلقہ لکھی غلام شاہ کے چھوٹے سے گاؤں رستم سے تعلق رکھتی ہیں، نے اپنی زندگی کے مشکل حالات کو ایک نئی سمت دی۔
2008 میں جب ان کے شوہر کی بیماری کی وجہ سے نوکری ختم ہوئی، گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی۔ اس مشکل وقت میں ان کا ایک بیٹا شدید بیماری کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا۔ مہناز بتاتی ہیں، "میری دنیا اجڑ گئی تھی، لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔” انہیں معلوم ہوا کہ سرسو نامی ادارہ خواتین کو بلاسود قرضے فراہم کرتا ہے، جس سے وہ اپنا کاروبار شروع کر سکتی ہیں۔ مہناز نے یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ انہوں نے قرض لے کر اپنے شوہر کا علاج کرایا اور شکارپور شہر میں ایک ریستوران کھولا۔
آج مہناز خود کاؤنٹر پر بیٹھتی ہیں، جبکہ ان کے شوہر، جو باورچی ہیں، کھانا تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کئی دیگر افراد کو بھی روزگار فراہم کیا۔ مہناز کہتی ہیں، "جب ہم نے ریستوران شروع کیا تو لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کیں۔ کچھ نے پولیس اور وڈیروں سے شکایت کی کہ یہ عورت گند پھیلانے آئی ہے۔ لیکن آج وہی لوگ ہمارے ریستوران میں کھانا کھانے آتے ہیں۔” مہناز کی کہانی سندھ کی ہر اس عورت کے لیے ایک مثال ہے جو اپنی محنت سے اپنے خاندان کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
سرسو نے نہ صرف قرض فراہم کیا بلکہ مہناز کو کاروبار چلانے کی تربیت اور آگاہی بھی دی۔ وہ کہتی ہیں، "آپ میرے ریستوران آئیں، آپ کو گھر جیسا لذیذ سندھی کھانا ملے گا، لیکن اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی!”
لاڑکانہ کی حکیم زادی: سندھی ثقافت کا ذائقہ
سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے تعلقہ ڈوکری کی یونین کونسل موئن جو ڈارو میں حکیم زادی نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک کھانے کا اسٹال شروع کیا۔ 2022 میں انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ سے ایک لاکھ سے زائد کا بلاسود قرض لے کر انہوں نے یہ کاروبار شروع کیا۔ ان کا اسٹال سندھ کے روایتی کھانوں جیسے سرسوں کا ساگ، پالک، لسی، مکھن، اور دودھ کی چائے کے لیے مشہور ہے، جو سندھی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔
حکیم زادی بتاتی ہیں کہ سردیوں کے موسم میں ان کی آمدنی عروج پر ہوتی ہے کیونکہ سیاح اور مقامی لوگ ان کے اسٹال پر روایتی سندھی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، "سردیوں میں یومیہ دو ہزار روپے تک کمائی ہوتی ہے۔ گرمیوں میں آمدنی کم ہوتی ہے کیونکہ سیاح کم آتے ہیں، لیکن پھر بھی گزر بسر ہو جاتی ہے کیونکہ سندھ کی شدید گرمی میں لوگ کم باہر نکلتے ہیں۔”
ان کا یہ کاروبار نہ صرف ان کے خاندان کی مالی حالت بہتر کر رہا ہے بلکہ سندھی ثقافتی ورثے کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ سسی لوہار اور حفیظہ بوزدار کہتی ہیں کہ حکیم زادی کا یہ اسٹال سندھ کی خواتین کے لیے ایک بہترین مثال ہے کہ وہ کس طرح چھوٹے کاروبار شروع کر کے مقامی معیشت میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔
سرسو کا کردار: خواتین کی معاشی خودمختاری
سرسو کے سی ای او محمد ڈتل کلہوڑو (ذوالفقار کلہوڑو) بتاتے ہیں کہ ان کا ادارہ سندھ کی دیہی خواتین کو بلاسود قرضے فراہم کرتا ہے۔ یہ قرضے صرف خواتین کے نام پر دیے جاتے ہیں جو اپنے خاندان کے ساتھ مل کر کاروبار کر سکتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "ہم بعض اوقات گرانٹس بھی دیتے ہیں جو ان لوگوں کے لیے ہوتی ہیں جو قرض واپس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔” سرسو نے یونین کونسل، تعلقہ، اور ضلع کی سطح پر کمیٹیاں بنائی ہیں جو خواتین کو تربیت اور ورکشاپس کے ذریعے کاروباری ہنر سکھاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ قرضوں کی تقسیم ایک منظم طریقہ کار کے تحت ہوتی ہے۔ کمیٹیاں سروے کرتی ہیں اور سفارشات پیش کرتی ہیں کہ کسے قرض یا فنڈ دیا جائے۔ اس عمل سے نہ صرف خواتین معاشی طور پر خودمختار ہوتی ہیں بلکہ وہ فیصلہ سازی میں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔ اقلیتی اور مسلم خواتین دونوں اس پروگرام کا حصہ ہیں، جو سندھ کی متنوع ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔
سندھ کی بہادر خواتین معیشت کی مضبوطی کا راز
مہناز مہر اور حکیم زادی جیسی خواتین کی کہانیاں ثابت کرتی ہیں کہ سندھ کی خواتین نہ صرف اپنے خاندانوں کی مالی ضروریات پوری کر رہی ہیں بلکہ صوبے کی معیشت اور ثقافت کو بھی تقویت دے رہی ہیں۔ چاہے وہ گاؤں کی ان پڑھ خاتون ہو یا شہر کی پڑھی لکھی عورت، سندھ کی خواتین اپنی محنت اور ہمت سے یہ دکھا رہی ہیں کہ وہ کچن چلانے، کھیتوں میں کام کرنے، اور بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ کاروبار میں بھی اپنے خاندان کے مردوں کے ساتھ مل کر معاشی استحکام لا سکتی ہیں۔
سندھ کی یہ خواتین صرف اپنے خاندانوں کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہیں کہ عزم، تربیت، اور مواقع کے ساتھ وہ کچھ بھی حاصل کر سکتی ہیں۔