گاج ڈیم منصوبہ: ایک امید، کچھ خدشات اور امکانات

0
گاج

محمد اسماعیل لانگاہ

سندھ میں پانی کے مسئلے پر جب بھی بات ہوتی ہے تو پانی کی قلت، بارش کے پانی کا ضائع ہونا، خشک سالی، زراعت کا بحران اور پینے کے صاف پانی کی کمی جیسے سوالات سامنے آتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں گاج ڈیم منصوبہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے امیدیں بھی وابستہ ہیں اور کئی سوالات بھی۔ سن 2006ء کے لگ بھگ شروع ہونے والے کام کو اب پچیس برس کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے۔ اتنے بڑے منصوبے کا کام کئی مرتبہ مبینہ کرپشن کے باعث بند ہوا اور پھر دوبارہ شروع کیا گیا۔ اب اس منصوبے کو 2030ء کے لگ بھگ مکمل ہونا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پچیس برس میں اس منصوبے کا صرف نقشہ ہی تیار ہوا ہے، تعمیر اور تکمیل تو ابھی باقی ہے۔ کیا یہ منصوبہ تین یا چار برس میں مکمل ہوجائے گا؟ یہ ایک بڑا اور اہم سوال ہے۔

گاج ڈیم کا نام خاص طور پر کاچھو اور دادو کے علاقوں سے وابستہ ہے، جہاں بارشوں کے دوران بہنے والے پانی کا ایک بڑا حصہ ذخیرہ نہ ہونے کے باعث آگے جاکر ضائع ہوجاتا ہے۔ اگر بارش کے پانی کو مناسب طریقے سے ذخیرہ کیا جاسکے تو یہی پانی خشک موسم میں زراعت، پینے اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے گاج ڈیم سندھ کے لیے ایک اہم آبی ذریعہ بن سکتا ہے۔

گاج ڈیم سے سب سے بڑی امید یہ ہے کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرکے کاچھو اور گردونواح کے علاقوں میں زرعی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے گا۔ جن علاقوں میں پانی کی کمی کے باعث زمینیں بنجر یا کم پیداوار دینے والی ہیں، وہاں پانی کی دستیابی سے آبادکاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ اگر منصوبے کی تعمیر، منصوبہ بندی اور انتظام درست انداز میں کیا جائے تو یہ ڈیم بارشوں کے دوران آنے والے سیلابی پانی کو منظم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ مقامی آبادی کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی اور زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

لیکن کسی بھی بڑے منصوبے کی طرح گاج ڈیم کو بھی صرف امید کی نظر سے دیکھنا کافی نہیں۔

ڈیم کی تعمیر سے متعلق پہلا اہم سوال مقامی آبادی، زمینوں اور ماحولیات کا ہے۔ جن لوگوں کی زمینیں یا روزمرہ کی سرگرمیاں منصوبے کے علاقے سے وابستہ ہیں، ان کے حقوق اور مفادات کا تحفظ لازمی ہے۔ اگر کسی منصوبے کے باعث لوگوں کی زمینوں، گھروں یا روزگار پر اثر پڑتا ہے تو صرف معاوضہ ادا کرنا کافی نہیں؛ بحالی، متبادل روزگار اور طویل مدتی انتظامات بھی ضروری ہیں۔ ترقی کا اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ اس کے فوائد مقامی لوگوں تک بھی پہنچیں۔

دوسرا اہم پہلو ماحولیاتی اثرات کا ہے۔ ڈیم کی تعمیر سے قبل پانی کے قدرتی بہاؤ، جنگلی حیات، مقامی ماحولیات اور زیریں علاقوں پر پڑنے والے اثرات کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اگر ماحولیاتی نقصان کے امکانات موجود ہوں تو انہیں کم کرنے کے لیے واضح اور قابلِ عمل منصوبے بھی بنائے جانے چاہئیں۔ پانی ہوگا تو اس کی تقسیم بھی اہم ہوگی۔ گاج ڈیم کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ ڈیم میں کتنا پانی ذخیرہ ہوتا ہے، بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ اس پانی کو کس طریقے سے تقسیم کیا جاتا ہے۔

سندھ میں ماضی کے کئی تجربات بتاتے ہیں کہ پانی کی دستیابی اور پانی کی منصفانہ تقسیم دو الگ الگ مسائل ہیں۔ اگر گاج ڈیم سے حاصل ہونے والے پانی کے فوائد صرف چند علاقوں یا افراد تک محدود ہوگئے تو یہ منصوبہ اپنے اصل مقصد سے دور ہوسکتا ہے۔ اس لیے پانی کی تقسیم، آبپاشی کے نظام، دیکھ بھال اور مقامی نگرانی کے حوالے سے ایک شفاف نظام ضروری ہے۔ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی پائیداری اس وقت بڑھتی ہے جب مقامی لوگ اسے اپنا منصوبہ سمجھیں۔ گاج ڈیم کے حوالے سے بھی مقامی آبادیوں، کاشتکاروں، ماہرین، ماحولیاتی ماہرین اور منتخب نمائندوں سے مشاورت ضروری ہے۔

لوگوں کو صرف منصوبے کے اعلانات کے ذریعے آگاہ کرنے کے بجائے واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ منصوبہ کس مرحلے میں ہے، اس پر کتنی لاگت آئے گی، کون سے علاقے متاثر ہوں گے، کیا فوائد حاصل ہوں گے اور ان فوائد کی تقسیم کس طرح ہوگی۔

گاج ڈیم سندھ کے لیے پانی کی قلت، خشک سالی اور بارش کے پانی کے انتظام کے حوالے سے ایک اہم موقع بن سکتا ہے۔ لیکن اس منصوبے کی اہمیت صرف اس کی تعمیر میں نہیں، بلکہ درست منصوبہ بندی، شفاف عملدرآمد، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں ہے۔ ہمیں ایسی ترقی درکار ہے جو صرف کنکریٹ اور پتھر کی تعمیر نہ ہو، بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائے۔ اگر گاج ڈیم کو مقامی آبادی کے حقوق، ماحولیاتی تقاضوں اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جائے تو یہ کاچھو کے لیے نئی امید کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ لیکن اگر منصوبہ بندی میں مقامی لوگوں کے خدشات، ماحولیاتی اثرات اور پانی کی تقسیم سے متعلق سوالات کو نظرانداز کردیا گیا تو ایک ممکنہ حل خود نئے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

اس لیے گاج ڈیم کے بارے میں سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ڈیم بننا چاہیے یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ اسے کس طرح تعمیر کیا جائے، تاکہ پانی بھی محفوظ ہو، زمین بھی آباد ہو، ماحول بھی محفوظ رہے اور مقامی لوگ بھی اس ترقی کے حقیقی شراکت دار بنیں۔

گاج ڈیم یقیناً ایک امید ہے، لیکن اس امید کو حقیقت میں بدلنے کے لیے شفافیت، سائنسی منصوبہ بندی، عوامی شمولیت اور ذمہ دارانہ انتظام بنیادی شرائط ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پچیس برس سے تاخیر کا شکار رہنے والا یہ منصوبہ اگر تین برس میں پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں ناممکن کو ممکن بنتے دیکھنا اب بھی مشکل ہی نظر آتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے