میڈیکل رپورٹ میں چندا مہاراج نابالغ قرار 

فوٹو: ٹوئٹر

حیدرآباد سے رواں برس اگست میں پراسرار طور پر غائب ہوجانے والی ہندو لڑکی چندا مہاراج کی میڈیکل رپورٹ سے ان کی عمر 16 سال ہونے کی تصدیق کردی گئی، جس کے بعد عدالت نے انہیں مزید ایک ہفتے تک دارالامان بھیج دیا۔

یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد سے اغوا ہونے والی چندا مہاراج نے مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کا بیان دے دیا

چندا مہاراج رواں برس اگست میں فیکٹری سے گھر واپس آتے ہوئے پر اسرار طور پر غائب ہوگئی تھی اور ان کے والدین کی جانب سے دو ماہ تک احتجاج کرنے کے باجود پولیس ان کا کیس درج کرنے کو تیار نہ تھی۔

تاہم رواں ماہ اکتوبر کے آغاز میں بچی کے والدین کی جانب سے مقامی عدالت سے رجوع کیے جانے کے بعد پولیس نے عدالتی حکم پر مقدمہ دائر کرکے بچی کو دارالحکومت کراچی سے بازیاب کرواکر عدالت میں پیش کیا تھا۔

پولیس نے گزشتہ ہفتے چندا مہاراج کو عدالت میں پیش کیا تھا،جہاں انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کا بیان دیتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے شمن مگسی سے پسند کی شادی کرلی ہے۔

https://twitter.com/NarainDasBheel8/status/1585528152608194563

عدالت نے ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد انہیں داالامان بھیجتے ہوئے ان کا میڈیکل کروانے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے 27 اکتوبر کو چندا مہاراج کو میڈیکل رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا۔


 

اس حوالے سے صحافی وینگس نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ میڈیکل رپورٹ میں چندا مہاراج کے نابالغ ہونے کی تصدیق ہوگئی، ان کی عمر 16 برس بتائی گئی ہے۔

ڈاکٹر سورٹھ سندھو نے بھی ٹوئٹ میں بتایا کہ چندا مہاراج کی عمر 16 برس ہونے کے باوجود انہیں والدین کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نے لکھا کہ بچی کو والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دی جانی چاہیے، تاکہ وہ تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل محفوظ بنائے۔

اسی حوالے سے مہاراج کمیونٹی کے رہنما مہیش مہاراج نے بتایا کہ میڈیکل رپورٹ میں بچی کے نابالغ ہونے کی تصدیق ہوگئی، تاہم عدالت نے انہیں 31 اکتوبر تک دارالامان بھیج دیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سماعت تک فیصلہ والدین کے حق میں آئے گا اور بچی کو والدین کے حوالے کردیا جائے گا۔