سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمین نمکیات سے متاثر، زیر زمین پانی تیزی سے خراب ہونے لگا، ماہرین

sindh

آبی ماہرین نے کہا ہے کہ ملک میں 60 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین نمکیات سے متاثرہ ہے، ایل بی او ڈی کی مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سندھ میں دریا اور نہروں میں شگاف پڑتے ہیں، جبکہ سندھ کا زیر زمین پانی تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔

زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کی فیکلٹی آف کراپ پروڈکشن کے زیراہتمام “کلراٹھی زمینوں کو بہتر اور قابل کاشت بنانے” کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جہاں ماہرین نے سندھ کی زراعت کو درپیش چیلنجز پر اظہار خیال کیا۔

اس موقع پر فیکلٹی آف کراپ پروڈکشن کے ڈین ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر نے کہا کہ سندھ ملک میں سب سے زیادہ نمکیات سے متاثرہ زمینوں والا صوبہ ہے۔ جس کی وجہ سے سندھ کی زراعت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں،

انہوں نے کہا کہ ایسی زمینوں میں نمک برداشت کرنے والی فصلیں اور سیم کم کرنے والے پودے لگا کر زمینوں کو سرسبز بنایا جا سکتا ہے۔ آبی ماہر ڈاکٹر معشوق ٹالپر نے کہا کہ سندھ کی زمینوں میں غیر فطری آبی گذرگاہیں بنانے کی وجہ سے زمین میں نمکیات کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

جبکہ ایل بی او ڈی کی غیر مناسب منصوبہ بندی کی وجہ سے ہر سال شگاف پڑتے ہیں اور نقصانات ہوتے ہیں اور شوگر ملوں کا گندا پانی بھی ان گذرگاہوں میں ڈالا جاتا ہے۔ ایگریکلچر ریسرچ سندھ کے ماہر شنکر بھوانی نے کہا کہ کلراٹھی زمینوں پر ضابطہ اور ان کی زرخیزی کو بچانا وقت کی ضرورت ہے، سماجی رہنما بینظیر کمبھر نے کہا کہ لوگوں میں پانی، روٹی اور لباس کی طرح، زمین کی بقا کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر شوکت ابراہیم ابڑو نے کہا کہ کلراٹھی زمینیں مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں، نمکیات زمین کی صحت اور پیداواری صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ اس موقع پر شکیل احمد چٹھہ، ظہور احمد پلیجو، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ جامڑو اور دیگر نے خطاب کیا۔ اس پراجیکٹ کے تحت ٹریننگ کے ساتھ ساتھ ٹنڈو محمد خان کے مختلف علاقوں میں نمکیات سے متاثرہ زمین کو آباد کرنے کے حوالے سے ٹرائلز بھی لگائے گئے تھے، جس کے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔