محکمہ خوراک سندھ کے ملازمین کی جانب سے سیلاب کے دوران اربوں روپے کی گندم چوری کا انکشاف

2624585-image-1711889133

محکمہ خوراک سندھ کے عہدیداروں کی غفلت کے باعث سیلاب کے دوران 2022 میں گندم خراب ہونے اور اس کے اعداد وشمار بھی غلط ریکارڈ ہونے کے باعث سندھ کے خزانے کو 3 ارب 22 کروڑ روپے کا بھاری نقصان پہنچانے کا اسکینڈل سامنے آگیا۔

نگران وزیر اعلیٰ مقبول باقر کے حکم پر نئے چئیرمین نے معائنہ ٹیم کے رکن علی گل سنجرانی کی سربراہی میں مکمل تحقیقاتی رپورٹ منتخب وزیراعلیٰ کو بھجوانے کی منظوری دی تھی۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق سندھ کے محکمہ خوراک کے عہدیداروں نے قومی خزانے کو 3 ارب 22 کروڑ کا نقصان پہنچایا، محکمے نے 2022کے دوران بارشوں سے گوداموں میں گندم خراب ہونے کا جو ریکارڈ پیش کیا تھا وہ غلط نکلا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کے مختلف گوداموں سے پچھلے برسوں میں 3 لاکھ79ہزار 62 گندم کی بوریاں چوری کی گئی تھیں، بوریوں کی مالیت 3 ارب روپے سے زائد بنتی ہے جبکہ محکمہ خوراک کے کرپٹ ملازمین کی جانب سے 2022 کی بارشوں کا غلط فائدہ اٹھایا گیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ خوراک کے اہلکار گندم کی چوری اور اسمگلنگ میں براہ راست ملوث ہیں، چوری ہونے والی گندم کی جگہ خراب گندم میں مٹی اور پتھر ملا کر ریکارڈ پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ محکمہ خوراک کے ملازمین نے قومی خزانے کو 3 ارب 22 کروڑ کا نقصان پہنچایا اور اسی طرح محکمہ خوراک کے ضلعی افسران مارکیٹ میں فروخت ہونے والی چوری شدہ گندم کی بوریوں کا حساب دینے میں بھی ناکام رہے۔

ویب سائٹ ایکسپریس کے مطابق متعلقہ حکام نے 3لاکھ79 ہزار گندم کی بوریاں چوری کرکے اوپن مارکیٹ میں فروخت کی، حیدرآباد ریجن کے گوداموں سے 78ہزار گندم کی بوریاں غائب ہیں، سکھر ریجن کے گوداموں سے 26ہزار بوریاں، لاڑکانہ ریجن کے گوداموں سے 63 ہزار بوریاں غائب ہوئی۔

اعداد وشمار میں واضح کیا گیا ہے کہ شہید بینظیر آباد ریجن سے 4 ہزار 500 بوریاں اور کراچی ریجن کے گوداموں سے 2 لاکھ گندم کی بوریاں غائب ہیں جبکہ محکمہ خوراک کے اہلکاروں نے چالاکی سے پرانی بوسیدہ اور پرانی گندم میں مٹی اور پتھر بھر دیے ہیں۔