سندھ کا 33 کھرب کا بجٹ پیش ہوگا، 50 ہزار نئی نوکریوں کا اعلان متوقع

سندھ کا آئندہ مالی سال کا 50 ارب کے خسارے پر مشتمل 3 ہزار 300 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، جس میں 50 ہزار نئی بھرتیوں کا اعلان بھی متوقع ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 سے 20 فیصد اضافے جبکہ کم سے کم اجرت 35 سے 36 ہزار مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں 50 ہزار سے زائد نئی بھرتیوں کا بھی اعلان کیا جائے گا جبکہ پہلے مرحلے میں کئی سو گھروں کو سولر سسٹم دینے کی بھی تجویز ہے۔
سندھ بجٹ کا تخمینہ 3 ہزار 300 ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 423 ارب روپے جبکہ مجموعی طور پر ترقیاتی بجٹ پر 959 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
سندھ بجٹ میں نئی ملازمتوں اور فرنیچر وغیرہ کے لیے 16 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، 5 ہزار نئی ملازمتوں میں 3 ہزار آسامیاں محکمہ ایجوکیشن کی ہوں گی، نئے مالی سال میں غیرترقیاتی اخراجات کی مد میں 1899 ارب 40 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
غیرترقیاتی اخراجات میں تنخواہیں، پینشن، قرضوں کے سود، فرنیچر اور دیگر اشیاء شامل ہیں جبکہ تعلیم کے شعبے میں 875 جاری اسکیموں کے لیے 32 ارب 16 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
محکمہ صحت کے لیے 210 جاری ترقیاتی پروگراموں کے لئے 18 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، محکمہ بلدیات کے لیے 155 ارب رکھنے کی تجویز ہے جبکہ امن و امان کی بحالی پر 170 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔