سید جلال محمود شاہ علیل، دعاؤں کی درخواست

FB_IMG_1729664031672

قومی رہنما، سیاست دان اور فلسفی سائیں جی ایم سید (غلام مرتضیٰ شاہ سید) کے پوتے اور سیاست دان امداد محمد شاہ کے بیٹے سید جلال محمود شاہ کو علالت کے باعث اسپتال داخل کروادیا گیا۔

سید جلال محمود شاہ خرابی صحت کی وجہ سے چند سال سے سیاست سے دور بھی ہیں اور انہیں سیاسی پروگراموں میں بھی کم دیکھا جاتا رہا ہے۔

چند دن قبل شدید بیماری کے باعث انہیں صوبائی دارالحکومت کراچی کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں اب ان کی صحت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔

سید جلال محمود شاہ کے علیل ہونے پر سندھ بھر کے سیاست دان اور کارکنان پریشان دکھائی دیے، انہوں نے جلال محمود شاہ کہ صحت یابی کے لیے دعاؤں کی درخواست بھی کی۔

خیال رہے کہ سید جلال محمود شاہ نے پرائمری کی پانچ جماعتیں اور ثانوی تعلیم کی چھٹی جماعت اپنے آبائی قصبے سن میں پاس کی، انھوں نے مزید تعلیم ساتویں جماعت سے انٹرمیڈیٹ تک کیڈٹ کالج پیٹارو میں حاصل کی۔ انھوں نے 1986 میں گورنمنٹ کالج نواب شاہ سے بیچلر آف آرٹس (بی اے) کیا۔

انہوں نے 1983 کی تحریک بحالی جمہوریت کے احتجاج میں بطور طالب علم حصہ لیا۔

انھوں نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ ‘ینگ پروگریسو تھنکرز فورم’ قائم کیا اور اس کے لیڈر بن گئے۔

سال 1996 میں ینگ پروگریسو تھنکرز فورم کا نام بدل کر ‘سندھ تھنکرز فورم’ رکھ دیا گیا اور شاہ اس کے پہلے صدر بنے۔

سندھ تھنکرز فورم میں سید منیر شاہ ذاکری، آصف بالادی اور دیگر نوجوان ان کے ساتھی تھے۔

فورم کے ذریعے کئی ادبی پروگراموں کا اہتمام کیا گیا اور ستار رند اور نوجوانوں کی دیگر کتابیں شائع کی گئیں۔

جلال شاہ نے 1997 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور آزاد امیدوار کے طور پر سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 22 فروری 1997 کو سندھ کی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے طور پر منتخب ہوئے۔

وہ 30 اکتوبر 1998 سے 12 اکتوبر 1999 تک سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہے۔