گاجی کھاوڑ بھی ڈوب گیا

تاریخی شہر 3 ستمبر کو ڈوبا—فوٹو: صغیر چانڈیو، فیس بک

شمالی سندھ کے ضلع قمبر و شہدادکوٹ کا اہم ترین شہر کھاجی کھاوڑ بھی سیلاب میں ڈوب گیا، اس شہر کو بھی بچانے کے لیے سندھ حکومت اور مقامی انتظامیہ نے کوئی انتظامات نہیں کیے تھے اور شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس کی حفاظت کے لیے بند باندھے تھے۔

https://twitter.com/AsgharNarejoo/status/1565973198201561091

گاجی کھاوڑ کے شہری حدود مین سیلاب اگست کے آخر تک داخل ہوچکا تھا مگر تین ستمبر کو شہر کا حفاظتی بند پانی کے دبائو کی وجہ سے ٹوٹ گیا، جس سے شہر ڈوب گیا اور ہزاروں خاندان پانی میں پھنسے رہ گئے۔

شہر کا حفاظتی بند ٹوٹنے پر ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا مگر 8 گھنٹے گزرنے کے باوجود وہاں امدادی ٹیمیں نہیں پہنچیں تھیں اور سیلاب نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

 گاجی کھاوڑ میں تین سے چار فٹ تک پانی جمع ہوگیا اور وہاں ہزاروں خاندان پھنسے کے پھنسے رہ گئے، مال مویشی اور لوگوں کے گھروں میں رکھا ہوا سامان و اناج بھی ڈوب گیا جب کہ پانی جمع ہونے کے بعد کئی کچے مکانات بھی گر گئے۔

گاجی کھاوڑ 2010 کے سیلاب میں ڈوبا تھا اور اس بار بھی یہ شہر سیلاب کی نظر ہوا، پہلے ہی خیال کیا جا رہا تھا کہ یہاں بھی پانی آجائے گا مگر اس باوجود انتظامیہ نے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے۔

گاجی کھاوڑ سے قبل قمبر و شہدادکوٹ کا ایک اور شہر قبو سعید خان بھی بارشوں کے بعد سیلاب سے ڈوب گیا تھا اور اب ضلع کے دوسرے شہر نصیرآباد اور وارھ کو بھی خطرہ ہے اور انتظامیہ نے وارھ کے شہریوں کو شہر خالی کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

گاجی کھاوڑ کے ڈوبنے کے بعد اب ضلعی ہیڈکوارٹر شہدادکوٹ کے ڈوبنے کے خدشات بھی ہیں، کیوں کہ اس ضلع کی سرحدیں جہاں ضلع دادو سے لگتی ہیں، وہیں اس کی سرحدیں بلوچستان کے ضلع جعفرآباد سے بھی لگتی ہیں اور مزکورہ دونوں اضلاع سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

گاجی کھاوڑ سے پہلے ضلع دادو کا تعلقہ ہیڈ کوارٹر خیرپور ناتھن شاہ (کے این شاہ) بھی گزشتہ ہفتے 31 اگست کو سیلاب سے ڈوب گیا تھا اور دادو کے دیگر شہروں، میہڑ اور جوہی کے ڈوبنے کے ٰخدشات بھی بڑھ گئے ہیں جب کہ دادو شہر کی حدود میں بھی سیلاب داخل ہوچکا ہے۔