تھر پارکر کی سندھیا میگھواڑ نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی

1000894964

انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریٹشن (آئی بی اے) سکھر کے تحت دوبارہ ہونے والے میڈیکل اینڈ ڈینٹل ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ) کی حتمی فہرست جاری کردی گئی.

نتائج کے مطابق این ڈی کیٹ ٹیسٹ کے امتحان میں صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے چار اُمیدواروں نے پہلی مجموعی طور پر 192 نمبرز لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے اُمیدواروں میں پسماندہ علاقے تھر پارکر کی ہندو لڑکی سندھیا میگھواڑ بھی شامل ہیں۔

سندھیا میگھواڑ کا تعلق ہندو قبیلے کے پسماندہ سمجھے جانے والے میگھواڑ قبیلے سے ہے۔

انہوں نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں 192 نمبرز لے کر جہاں پہلی پوزیشن حاصل کی، وہیں وہ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ہندو اور پہلی لڑکی بھی ہیں۔

نتائج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ٹاپ 100 امیدواروں میں سے 10کا تعلق صوبائی دارالحکومت کراچی سے ہے۔

نتائج کے مطابق صوبے بھر سے اے ون اور اے گریڈ لانے والے امیدواروں کی اکثریت 56.70 فیصد ایم بی بی ایس کے داخلے لیے کوالیفائی نہیں کرسکی صرف 43.29 فیصد امیدوار ہی ایم بی بی ایس کے لیے ٹیسٹ پاس کرسکے جب کہ بی ڈی ایس داخلے کے لیے کوالیفائی امیدواروں کی تعداد 50.66فیصد رہی۔

آئی بی اے سکھر کے تحت ٹیسٹ میں 32200 امیدواروں نے شرکت کی تھی، 13942امیدوار ایم بی بی ایس کے لیے اہل قرار پائے جب کہ بی ڈی ایس کے لیے 16314 امیدوار اہل قرار پائے۔

نتائج کے مطابق رانی پور، بدین، خیرپور اور تھرپارکر کے امیدواروں نے سب سے زیادہ 192 نمبر لیے۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے مطابق بیچلر آف میڈیسن اور بیچلر آف سرجری (MBBS) کے لیے کٹ آف اسکور پروگرام 55 فیصد ہے جبکہ بیچلر آف ڈینٹل سرجری (BDS) پروگرام کے لیے کٹ آف اسکور 50 فیصد ہے۔

یاد رہے کہ ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے تحت ہونے والے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ جسے سندھ ہائیکورٹ نے پرچہ آوٹ ہونے کے باعث کالعدم قرار دے دیا تھا اس ٹیسٹ 22 ہزار 3سو 66 امیدوار کامیاب قرار پائے تھے اور امیدواروں کی کامیابی کی شرح 58 اعشاریہ 79 رہی تھی جب کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے زیر اہتمام ٹیسٹ میں سندھ بھر سے 38 ہزار 41امیدوار شریک ہوئے تھے۔

بعد ازاں آئی بی اے سکھر کے تحت دوبارہ ٹیسٹ منعقد ہوئے، جس کے نتائج تین دن قبل جاری کیے گئے تھے۔