صحافی خاور حسین کے اہل خانہ نے قتل کا شبہ ظاہر کردیا، تفتیش کے لیے کمیٹی قائم

سانگھڑ میں غیر طبعی موت کا شکار ہونے والے ڈان نیوز کے رپورٹر خاور حسین کے اہل خانہ نے قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے شفاف تفتیش کا مطالبہ کردیا۔
خاور حسین کے والدین اور بھائی18 اگست کو امریکا سے کراچی پہنچے، جہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خاور حسین کے والد نے قتل کا شبہ ظاہر کیا۔
خاور حسین کے والد رحمت حسین باجوہ، ان کی والدہ اور بھائی کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے وہ حیدرآباد کے لیے روانہ ہوگئے، وہ میت لے کر سانگھڑ جائیں گے، خاور حسین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر عید گاہ گراؤنڈ سانگھڑ میں ادا کی جائے گی۔
مرحوم خاور حسین کے والد رحمت حسین باجوہ نے اپنے بیٹے کی خود کشی کا تاثر یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں قتل کرنے کا شبہ ظاہر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی سے زمین یا کسی بھی قسم کا کوئی تنازع نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا بہت بہادر اور دلیر تھا، خود سے گولی مار کر جان لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے، یہ قتل ہی لگتا ہے، لیکن اس وقت پولیس کی تفتیش جاری ہے، دیکھیں کیا حقائق سامنے آتے ہیں، ہم یہاں موجود نہیں تھے، اس لیے زیادہ معلومات نہیں کہ اس وقت پولیس کی تحقیقات کس مرحلے میں ہیں۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے صحافی کی موت یا مبینہ خودکشی کے لیے اعلیٰ سطحی تفتیشی کمیٹی قائم کردی۔
کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) آزاد خان کریں گے، جب کہ کمیٹی ممبران میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) غربی عرفان بلوچ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عابد بلوچ شامل ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی پراسرار موت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور کمیٹی 7 روز میں اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کو پیش کرے گی۔
خاور حسین کی گولیاں لگی لاش 16 اور 17 اگست کی درمیانی شب سانگھڑ میں اپنی کار سے ملی تھی، ان کی گاڑی سے ان کی ذاتی پستول بھی برآمد ہوئی تھی۔