ناپا اور کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے تحت 28 سال بعد پہلی سندھی فیچر کی نمائش

IMG-20250818-WA0021

نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) اور کلائمٹ ایکشن سینٹر (سی اے سی) نے “Imagining Life” پروجیکٹ کا آغاز کر دیا، جس کے تحت 28 سال بعد پاکستان میں پہلی سندھی فیچر فلم انڈس ایکوز “Indus Echoes” کی اسکریننگ کی گئی۔

صوبائی دارالحکومت کراچی کے ناپا سینٹر میں دکھائی گئی مذکورہ فلم کو پہلے ہی عالمی فلم فیسٹولز میں پیش کیا جا چکا ہے۔

مذکورہ فلم کی کہانی نوجوان فلم میکر راہول اعجاز نے لکھی ہے اور انہوں نے ہی اسے ڈائریکٹ کیا ہے، فلم کسانوں، شاعروں، ماہی گیروں، عاشقوں اور خود دریا کی کہانیوں کو جوڑتی ہے۔

فلم میں انسان اور دریائے سندھ کے درمیان تعلق اور کشمکش کو تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

فلم کی اسکریننگ ہاؤس فل تھی اور اختتام پر ناظرین نے اسے زبردست پذیرائی دی۔

بعد ازاں پینل ڈسکشن میں راہول اعجاز نے بتایا کہ شاعری ہمیشہ ان کے خیالات کو بیان کرنے میں مددگار رہی ہے، انہوں نے کہا کہ فلم مکمل طور پر سندھی میں بنائی گئی ہے، جس کے بعد اسے انگریزی سب ٹائٹلز دیے گئے۔

افاق بھٹی نے اپنے خیالات میں کہا کہ تمام ڈیمز اور بیراج دریائے سندھ کے زخم ہیں، یہاں تک کہ یہ فلم بھی کوٹری بیراج کے قریب شوٹ کی گئی جو دریا کا آخری دکھ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب صرف دریا تک محدود نہیں تھی بلکہ پورے خطے کے دریاؤں کے نظام سے جڑی ہوئی تھی۔

ڈائریکٹر سی اے سی یاسر دریا نے کہا کہ جب انہوں نے فلم کا ٹریلر دیکھا تو فوراً اندازہ ہوگیا کہ یہ ایک اہم پروجیکٹ ہے، اسی لیے سی اے سی نے اسے اسکرین کرنے کا فیصلہ کیا، فلم 12 ستمبر کو ملک بھر میں ریلیز کی جائے گی۔

تقریب کا آغاز ڈاکٹر صادیہ عباس (Rutgers University) اور نیلوفر فرخ کی پریزنٹیشنز سے ہوا۔

ڈاکٹر عباس نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ہر کسی کی جنگ ہے، اور اس تباہی میں نوآبادیاتی دور اور بعد کی صنعتی پالیسیوں دونوں کا کردار ہے۔

نیلوفر فرخ نے زور دیا کہ تخلیقی سوچ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ زمین کے سگنلز کو سننے کے لیے تیار نہیں، جبکہ نوآبادیاتی ڈھانچے اب بھی گلوبل ساؤتھ میں اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

آخر میں پینل ڈسکشن ہوئی، جس میں سائرہ دانش احمد، عمران مشتر نفیس، سیمیتا احمد (COO, NAPA) اور امین رحمان شامل تھے۔ پینل میں گفتگو ہوئی کہ کس طرح تخیل موجودہ رکاوٹوں کو توڑ کر اجتماعی مستقبل کی راہیں کھول سکتا ہے۔