سندھ حکومت نے جھمپیر میں بزنس ٹو بزنس ونڈ پاور پلانٹ کے لیے 300 ایکڑ زمین د ے دی

سندھ حکومت نے جھمپیر میں تین سو ایکڑ اراضی مور پاور کمپنی (ایم پی سی) کو الاٹ کر دی، تاکہ سو میگاواٹ کا ہائبرڈ ونڈ اور سولر منصوبہ قائم کیا جا سکے۔
یہ منصوبہ سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا) کے تحت شروع ہونے والا پہلا بزنس ٹو بزنس بجلی منصوبہ ہے، جس کے ذریعے توانائی براہِ راست نوری آباد کی صنعتوں کو فراہم کی جائے گی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام صنعتوں کو سستی اور قابلِ بھروسہ بجلی فراہم کرنے، مہنگے فیول پر انحصار کم کرنے اور صوبے کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت پینسٹھ میگاواٹ کے ونڈ ٹربائنز اور پینتیس میگاواٹ کے سولر پینلز لگائے جائیں گے۔
ایم پی سی کے چیف ایگزیکٹو مصطفیٰ عبداللہ کے مطابق کمپنی نے نوری آباد کی درجن بھر صنعتوں کے ساتھ بیس روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہمی کا ٹرم شیٹ سائن کیا ہے اور بینک الفلاح، فیصل بینک اور جے ایس بینک کے ساتھ ایک کنسورشیم بنانے پر بات چیت جاری ہے تاکہ عالمی بینک کے سات ارب ڈالر کے گرین فنڈز کے تحت اسی فیصد قرضہ حاصل کیا جا سکے۔ منصوبہ دو ہزار چھبیس تک مکمل کر کے فعال کر دیا جائے گا۔
صوبائی وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے مذکورہ منصوبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جھمپیر کا ونڈ کوریڈور پچاس ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور محض آٹھ روپے فی یونٹ کی کم ترین لاگت پر توانائی فراہم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ اس قدرتی خزانے کو بروئے کار لا کر صنعتی ترقی اور معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے۔
جھمپیر کے ونڈ کوریڈور میں اس وقت چھتیس پروڈیوسرز ایک ہزار آٹھ سو پینتالیس میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور حکام کو امید ہے کہ اس ماڈل کے تحت مزید اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سندھ میں آئے گی جس سے روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صوبائی سطح پر اس طرح کے اقدامات وفاقی رکاوٹوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے سفر کو تیز کر سکتے ہیں اور یہ بزنس ٹو بزنس ماڈل دوسرے صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔
ایم پی سی کے سربراہ مصطفیٰ عبداللہ نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کا مظہر ہوگا کہ نجی سرمایہ کاری، عالمی گرین فنڈز اور صوبائی خودمختاری مل کر کس طرح پائیدار توانائی کے حل فراہم کر سکتے ہیں۔ ا
گر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو جھمپیر کا ہائبرڈ پلانٹ نہ صرف سندھ کے توانائی کے منظرنامے کو بدل دے گا بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے، جو صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرے گا، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرے گا اور کم کاربن مستقبل کی بنیاد ڈالے گا۔