تاریخ میں پہلی بار خاتون بطور سندھ فشریز چیئرپرسن مقرر

IMG-20250823-WA0000

سندھ میں پہلی بار حکومت سندھ کے سندھ فشریز ڈیپارٹمنٹ میں خاتون چیئرپرسن کو مقرر کردیا گیا۔

پاکستان فشر فوک فورم (پی ایف ایف) کی سینئر نائب چیئرپرسن اور ماحولیاتی کارکن فاطمہ مجید کو سندھ فشریز ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

سندھ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ تعیناتی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس وژن کا حصہ ہے، جس کے تحت صوبائی حکومت سب کو ساتھ لے کر چلنے اور خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بااختیار بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

فاطمہ مجید ماہی گیر برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون ہیں جو اس اہم شعبے کی سربراہی کریں گی۔

ان کی تعیناتی اس بات کی علامت ہے کہ سندھ حکومت نہ صرف میرٹ پر مبنی قیادت کو فروغ دے رہی ہے بلکہ عوامی اداروں میں مقامی برادری کی شمولیت اور جامع نمائندگی کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔

یہ قدم ان لاکھوں ماہی گیروں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے جو نسل در نسل سمندر سے جڑے ہوئے ہیں لیکن اکثر فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھے گئے۔

پاکستان فشر فوک فورم، جو ایک جمہوری اور عوامی تنظیم ہے، اس وقت ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد ارکان پر مشتمل ہے جن میں تقریباً 35 فیصد خواتین شامل ہیں۔

پی ایف ایف ملک کی مضبوط سماجی تحریکوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اور اس کی جدوجہد کے بنیادی نکات میں مقامی ماہی گیروں کے حقوق، انڈس ڈیلٹا کی بحالی، پائیدار فشریز پالیسی، مچھلیوں کی منڈیوں کی شفافیت، ٹھیکہ داری نظام کا خاتمہ، بڑے ٹرالروں کے ذریعے صنعتی ماہی گیری پر پابندی اور سمندری آلودگی کے خلاف آواز اٹھانا شامل ہیں۔ فاطمہ مجید بھی گزشتہ کئی برسوں سے ماحولیات انصاف اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف احتجاجی تحریکوں کا حصہ رہی ہیں۔

سندھ ماہی گیری کے وسائل کے اعتبار سے پورے پاکستان میں سب سے نمایاں ہے، کیونکہ یہاں تقریباً سات سو کلومیٹر طویل ساحل موجود ہے اور صوبہ مجموعی طور پر ملک کی ماہی گیری کی پیداوار کا تقریباً پینسٹھ فیصد فراہم کرتا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کراچی کی مچھلی منڈی خطے کی سب سے بڑی فش مارکیٹ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے نہ صرف مقامی بلکہ برآمدی ضروریات بھی پوری کی جاتی ہیں۔ تاہم صنعتی ماہی گیری، سمندری آلودگی اور انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی ماہی گیروں کے روزگار اور سمندری حیاتیات کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔