صحافی خاور حسین نے خودکشی کی تھی، پولیس

387144-1142209818

صحافی خاور حسین کی پراسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی سندھ پولیس کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی، جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ انہوں نے خودکشی کی تھی۔

خاور حسین جو کہ ڈان نیوز کے ایک سینئر رپورٹر تھے، 16 اگست کو سانگھڑ میں ایک ہوٹل کی پارکنگ میں اپنی گاڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت کے بعد، صحافتی برادری کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔

سندھ پولیس کی آٹھ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں واقعے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا گیا، جس میں خاور حسین کے کراچی سے سانگھڑ تک کے سفر کی سی سی ٹی وی فوٹیجز، جائے وقوعہ کا معائنہ، عینی شاہدین کے انٹرویوز، اور ان کے ہوٹل میں داخلے کی ویڈیو شامل ہے۔ اس کے علاوہ، پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق خاور حسین کی گاڑی ہوٹل کے باہر تقریباً 2 گھنٹے تک کھڑی رہی اور اس دوران کوئی بھی شخص ان سے ملنے یا ان کی گاڑی کے قریب نہیں آیا۔ میڈیکل اور پوسٹ مارٹم رپورٹس نے بھی موت کی وجہ خودکشی ہی قرار دی ہے۔ رپورٹ میں قتل یا حادثاتی طور پر گولی چلنے کے امکان کو مکمل طور پر رد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خودکشی کی وجوہات جاننے کے لیے خاور حسین کے اہلخانہ کا تعاون ضروری ہے۔

کچھ صحافیوں اور قریبی ساتھیوں نے غیر رسمی طور پر بتایا کہ خاور حسین اور ان کی اہلیہ کے تعلقات شدید خراب تھے۔ تاہم، رپورٹ میں اس پہلو پر مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

خاور حسین کی میت کا دوسرا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا تھا، جس میں یہ تصدیق ہوئی کہ موت کی وجہ سر میں قریب سے لگی گولی تھی۔ اس کے باوجود، خاور حسین کے بھائی اعجاز حسین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بھائی ایک باہمت اور خوش مزاج شخص تھا جو خودکشی نہیں کر سکتا تھا۔