پینشن اور الاؤنسز میں کٹوتیوں کے خلاف سندھ بھر میں سرکاری ملازمین کا احتجاج، اسکول بند

سندھ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی پنشن اور الاؤنس میں کٹوتی کے فیصلے کے خلاف صوبے بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
سکھر، لاڑکانہ، نوابشاہ، کراچی اور میرپورخاص ڈویژنز سمیت تقریباً تمام شہروں میں اسکول بند رہے، اسپتالوں میں جزوی کام روک دیا گیا، کئی شہروں میں اع پی ڈی معطل رہی۔
سندھ ایمپلائز الائنس اور پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (پی ٹی الف) کی کال پر ہزاروں ملازمین نے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا کر "پنشن کٹوتی نامنظور” اور "ملازمین سے زیادتی بند کرو” کے نعرے لگائے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں متعدد بار ملازمین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔ 2023 میں سرکاری ملازمین کے میڈیکل الاؤنس میں 15 فیصد اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں 10 فیصد کمی کی گئی تھی جبکہ رواں سال بجٹ میں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں اوسطاً 12 سے 17 فیصد تک کٹوتی کی گئی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات سراسر ظلم اور ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سرکاری ملازم اپنی پوری زندگی عوام کی خدمت اور بچوں کے مستقبل کی بہتری کے لیے وقف کرتا ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ہی اس کا واحد سہارا رہ جاتی ہے۔ اس سہولت کو ختم یا کم کرنا ان کے بنیادی حقوق پر حملہ ہے۔
کندھ کوٹ، لاڑکانہ، سکھر، نوابشاہ، میرپورخاص اور کراچی میں دفاتر کی تالا بندی اور قلم چھوڑ ہڑتال کی گئی۔
ملازمین کا کہنا تھا کہ حکومت ملازمین دشمن پالیسی اپنا کر ظلم کر رہی ہے، ان کے جائز حقوق بشمول پنشن اصلاحات، گروپ انشورنس، ڈی آر اے اور تنخواہوں میں اضافے جیسے مطالبات فوری تسلیم کیے جائیں۔
احتجاجی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر پنشن اور الاؤنس میں کی گئی کٹوتیاں واپس نہ لی گئیں تو صوبے بھر میں احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔