سندھ اسمبلی ارکان کی تنخواہیں 200 فیصد اضافے کے بعد ساڑھے چار لاکھ روپے کردی گئی

1504593_2942107_awaisQadirShah-meeting_updates

سندھ اسمبلی ارکان کی تنخواہوں و مراعات میں اضافہ کر دیا گیا، ارکان کی تنخواہیں میں 200 فیصد اضافے کے بعد ساڑھے چار لاکھ روپے تک کردی گئی۔

سندھ اسمبلی میں 8 اگست کو اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل پیش کیا گیا تھا جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی جس کے سربراہ اسپیکر اسمبلی اویس شاہ تھے جبکہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سمیت تمام جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔

پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد کیا گیا، جس میں تمام جماعتوں کے نامزد ممبران نے شرکت کی۔

اراکین کی مشاورت کے بعد اجلاس میں تنخواہوں میں 200 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔

سندھ اسمبلی میں 8 اگست کو اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل پیش کیا گیا تھا جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی جس کے سربراہ اسپیکر اسمبلی اویس شاہ تھے جبکہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سمیت تمام جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔

پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد کیا گیا، جس میں تمام جماعتوں کے نامزد ممبران نے شرکت کی۔

اراکین کی مشاورت کے بعد اجلاس میں تنخواہوں میں 200 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔

پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے اس کی حمایت کی جبکہ جماعتِ اسلامی کے واحد رکن نے مخالفت کی۔

اس وقت سندھ اسمبلی کے ممبران کی تنخواہ الاؤنسز سمیت 1 لاکھ 55 ہزار روپے ہے، کمیٹی کے فیصلے کے بعد تنخواہ و الائونسز کی رقم تقریباً ساڑھے 4 لاکھ روپے ہو جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی اراکینِ اسمبلی کی بیسک تنخواہ 50 ہزار روپے سے 3 لاکھ روپے ہو جائے گی۔

ساتھ ہی آفس مینٹینس الاؤنس 15 ہزار روپے، ٹیلی فون الاؤنس 10 ہزار روپے، ہاؤس رینٹ الاؤنس 50 ہزار روپے، موبائل الاؤنس 10 ہزار روپے، یوٹیلیٹی الاؤنس 20 ہزار روپے، ڈیلی الاؤنس 1 ہزار سے بڑھا کر 3 ہزار روپے، کنوینس الاؤنس 1 ہزار سے بڑھا کر 3 ہزار روپے کردیا گیا۔