ٹوپی، اجرک، حیدرآبادی چوڑیاں اور ہالا کی لکڑی، سندھ کی ثقافتی اشیا کے طور پر رجسٹرڈ

حکومت سندھ نے صدیوں بعد بالآخر سندھی اجرک، ٹوپی، حیدرآبادی چوڑیوں اور ہالا میں تیار کی جانے والی لکڑی کی نقش نگاری کی اشیاء کو سندھ کی ثقافتی پہچان کے طور پر رجسٹرڈ کروالیا۔
محکمۂ ثقافت حکومتِ سندھ نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے صوبے کی چاروں نمایاں ثقافتی پہچانوں کو بالآخر جغرافیائی اشارے (Geographical Indications) کے طور پر رجسٹرڈ کرا لیا۔
حکومت سندھ نے سندھی اجرک، سندھی ٹوپی، حیدرآبادی چوڑیوں اور ہالا کی جاندی لکڑی پر نقش نگاری (Wooden Lacquer Work) کو رجسٹرڈ کروایا۔
یہ رجسٹریشن وفاقی وزارتِ تجارت کے ماتحت انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے تعاون سے ممکن ہوئی۔
اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے باقاعدہ سرٹیفکیٹس بھی جاری کردہے گئے۔
سرٹیفکیٹس کے مطابق سندھ کی ثقافتی پہچان کی اشیا کو 24 جون 2025 کو رجسٹر کیا گیا، جبکہ یہ اندراج جغرافیائی اشاروں (رجسٹریشن اور تحفظ) ایکٹ 2020 کے سیکشن 7 اور رول 24 کے تحت کیا گیا۔
ان کی رجسٹریشن کا عمل ڈائریکٹر جنرل کلچر، ٹورازم، اینٹی کوئٹیز اینڈ آرکائیو ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ سندھ کے ادارے کے ذریعے مکمل ہوا۔
سرٹیفکیٹس پر رجسٹرار جغرافیائی اشاروں محمد رفیق کے دستخط اور سرکاری سیل 4 اگست 2025 کو ثبت کیے گئے۔
ثقافتی ماہرین کے مطابق سندھ حکومت نے صدیوں بعد ان روایتی اشیاء کو قانونی اور سرکاری شناخت دے کر نہ صرف ہنرمندوں کے حقوق محفوظ کیے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سندھ کی تہذیبی وراثت کو ایک نئی طاقت دی۔
تاریخی اہمیت
سندھی ٹوپی عزت و وقار اور روایت کی علامت ہے۔
اجرک سندھ کی زمین اور صوفیانہ تہذیب کی جھلک پیش کرتی ہے۔
حیدرآبادی چوڑیاں خواتین کی زیبائش کا لازوال حصہ رہی ہیں۔
ہالا کی لکڑی پر نقش نگاری اپنی باریک کاریگری اور رنگوں کے امتزاج کے باعث دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت سندھ کی ثقافت کے تحفظ اور فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی ہنرمندوں کو عالمی سطح پر نئی پہچان اور قانونی سہارا فراہم کرے گی۔