پنجاب کے بعد سندھ میں بھی اونچے سیلاب کا خدشہ

صوبہ پنجاب میں شدید سیلاب کے بعد اب اگلے مرحلے میں سندھ میں بھی سیلاب کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) وسط ستمبر تک سندھ کے تینوں بیراجوں پر اونچے درجے کے سیلاب سے خبردار کردیا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے تینوں دریاؤں راوی، ستلنج اور چناب میں موجود شدید سیلابی صورتحال کے باعث نشیبی دریائے سندھ میں بھی شدید سیلابی صورتحال کے خطرہ ہوگا۔
ادارے کے مطابق نشیبی اور دریائی علاقے خطرے میں ہیں اوور فلو، بند ٹوٹنے اور علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے،متعلقہ ادارے فوری اقدامات کریں۔
این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق 3 سے 4 ستمبر کے دوران 9 لاکھ سے 9 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک کے ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے،ممکنہ نقصان کے خطرے کے پیش نظر بند توڑ کے بہاؤ کا رخ بدلنے کی صورت میں 8 لاکھ 25 ہزار سے 9 لاکھ کیوسک کے ریلے متوقع ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ گڈوبیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک بہاؤ متوقع ہے،خطرناک صورتحال سے بچاؤ کے لئے بند ٹور کر پانی کا رخ موڑنے کی صورت میں بہاؤ کمی کے ساتھ 7 لاکھ 50 ہزار سے 9 لاکھ کیوسک ہو جائے گا۔
مجموعی طور پر بہاؤ 12 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے جو انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا کرے گا، اسی طرح سکھر بیراج میں 6 تا 7ستمبر کے دوران 8 لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک کا بہاؤ متوقع ہے جب کہ کوٹڑی بیراج میں 8 تا 9 ستمبر کے دوران 8لاکھ سے10 لاکھ کیوسک بہاؤ متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ 12 تا 13 ستمبر تک ہائی الرٹ پر رہیں۔ دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں شدید اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ بالائی علاقوں میں موجود شدید بہاؤ نشیبی علاقوں میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔نشیبی اور دریائی علاقے خطرے میں اوور فلو، بند ٹوٹنے اور علاقے زیر آب آنے کا خدشہ۔ فوری اقدامات کریں۔
سیلابی ریلوں کے باعث زرعی اراضیاں، قریبی آبادیاں، دیہات اور تعمیرات متاثر ہو سکتی ہیں۔سیلاب سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اپنائیں، انخلاء کے لئے تیار رہیں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔