ظلم کی انتہا، ٹھل میں 5 سالہ بچی کو ’کاری‘ قرار دے دیا گیا

فوٹو: ٹائم نیوز

شمالی سندھ کےضلع جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں ملزم نے اپنی کم سن پانچ سالہ بھانجی کو ’کاری‘ قرار دے کر انسانیت کو شرما دیا جب کہ پولیس معاملے سے بے خبر بنی ہوئی ہے۔

سندھ اور بلوچستان میں ’کاری‘ اس خاتون یا لڑکی کو قرار دیا جاتا ہے، جس پر کسی غیر محرم کے ساتھ جنسی تعلقات ہوتے ہیں، اسی طرح مرد کو ’کارو‘ قرار دیا جاتا ہے۔

سندھ اور بلوچستان میں ’کارو کاری‘ کے الزامات زیادہ تر جھوٹے ہیں، جنہیں ملکیت حاصل کرنے، پیسے بٹورنے یا دشمنوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

’کارو کاری‘ کے الزام کے بعد اکثر خواتین اور مردوں کو قتل بھی کردیا جاتا ہے، یہ قتل غیرت کے نام پر کیے جاتے ہیں اور ایسے قتل پر عام طور پر پولیس بھی کوئی قانونی کارروائی نہیں کرتی۔

 

ٹائم نیوز کے مطابق ٹھل کے گاؤں چوک لاشاری کے مکین ھزار بنگلانی نے احتجاج کیاکہ ان کے سالے نے ان کی پانچ سالہ کمسن بیٹی فاطمہ پر وڈیرے کے کہنے پر ’کاری‘ کا الزام لگایا ہے اور وہ انہیں پیسوں کی خاطر قتل کرنا چاہتا ہے۔

بچی کے والد نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس اور اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی اور کہا ان کی بچی کی زندگی بچائی جائے۔

دوسری جانب ٹھل کے سی سیکشن تھانے کی پولیس نے ایسے کسی بھی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس طرح کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

ٹھل میں کمسن بچی کو ’کاری‘ قرار دیے جانے کا واقعہ سامنے آنے کے بعد لوگوں نے سوشل میڈیا پر احتجاج کرتے ہوئے سندھ حکومت اور پولیس سے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔