غازی گوٹھ کے مکینوں پر تشدد کے خلاف لوگ برہم

احتجاج کرنے والی خواتین نے پولیس کی جانب سے کیے گئے شیل بھی دکھائے—فوٹو: ٹوئٹر

دارالحکومت کراچی کی اسکیم 33 میں صفوراں اور سچل گوٹھ کے قریب واقع قدیم سندھی رہائشی اابادی غازی شاہ گوٹھ کے مکینوں پر پولیس اور انتظامیہ کےتشدد کے خلاف لوگوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 

غازی شاہ گوٹھ کے مکینوں گزشتہ کئی دن سے اپنے گھروں کو بچانے کے لیے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے پرامن احتجاج پر پولیس کی جانب سے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیے جانے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد لوگوں نے سندھ حکومت پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

سندھ حکومت اور پولیس کے خلاف تشدد کے خلاف ٹوئٹر پر ’غازی گوٹھ‘ کا ٹرینڈ بھی ٹاپ پر آگیا اور کئی صارفین نے مکینوں پر احتجاج و تشدد کی ویڈیوز و تصاویر شیئر کرتے ہوئے مکینوں کے ساتھ ہمدردری کا اظہار کیا۔

صحافی سمیر میندھرو نے مکینوں پر پولیس کے تشدد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ کی کہ اینٹی انکروچمنٹ پولیس کا اختیار ہی نہیں کہ وہ ‘پرائیوٹ’ زمین کو کسی بھی قسم کے فبصے سے واگزار کروائے۔


انہوں نے لکھا کہ پولیس سمیت 500 سے زائد کی نفری نے کس کے اور کیوں اتنی بڑی غیر قانونی کارروائی کی؟

صحافی سنجے سادھوانی نے پولیس اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین اور بچوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مینشن کیا اور انہیں بتایا کہ یہ کراچی میں سندھی گاؤں غازی گوٹھ پر اسرائیلی پولیس کی جانب سے کئے گئے فائر اور شیل کے خول ہیں۔ یہاں کچھ بااثر بلڈر کہنے پر سب کچھ ہو رہا ہے ۔ سر آپ کے صوبے کی پولیس افغانوں کی طرف کئے گئے قبضوں خاموش ہے۔ لیکن یہ تو پھر لیز پر گاؤں ہے ۔قصور تو بتاؤ کوئی ان کا؟ا

سماجی کارکن خالد کوری نے بھی مکینوں پر پولیس کی جانب سے کی گئی فائرنگ کی مبینہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سندھ پولیس اپنے ہی لوگوں پر گولیاں چلا رہی ہے، ان سے قبضہ مافیا پر گولیاں نہیں چلائی جاتیں۔

سماجی رہنما سعید سانگری نے بھی غازی گوٹھ کو مسمار کرنے کے خلاف ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اک سروے ہونا چاہئیے! کراچی سے حیدرآباد تک کتنی زمین بیچی گئی ہے،کس کس کے ہاس ہے، کتنی مین بیچ ڈالی، دھرتی کو کیون بیچا گیا، کس دور مین بیچی گئی۔

https://twitter.com/BasheerMirani/status/1553351014430003202

رابیل سیال نے ایک خاتون مکین کی تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ جمہوریت کی دعوےدار سندھ حکومت کا ایک پھر غازی گوٹھ ‘کراچی’ کے مکینوں پر تشدد، ہوائی فائرنگ۔