صحافی اختر بلوچ نے انتقال سے چند دن قبل موت کی پیش گوئی کردی تھی

اختر بلوچ کی عمر 50 سال تھی—فوٹو؟: فیس بک

سندھ کے سینیئر صحافی اور مورخ اور مصنف اختر بلوچ 30 جولائی کی شب کچھ دن تک علیل رہنے کے بعد فانی دنیا سے کوچ کر گئے مگر انتقال سے چند دن قبل ان کی کراچی پریس کلب (کے پی سی) میں بنائی گئی آخری ویڈیو وائرل ہوگئی، جس میں انہوں نے اپنی موت کی پیش گوئی کی تھی۔

اختر بلوچ کو نہ صرف صحافت بلکہ انہیں دارالحکومت کراچی کی تاریخ کو جدید اور مختلف انداز میں قلم بند کرنے کی وجہ سے بھی شہرت حاصل رہی، ان کا تعلق لیاری سے تھا مگر پورے سندھ میں وہ یکساں مقبول تھے۔

 

اختر بلوچ کراچی پریس کلب کے سینیئر رکن ہونے کے علاوہ کراچی یونین آف جرنلسٹ (کے یو جے) کے بھی سینیئر رکن تھے جب کہ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے علاوہ دیگر صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے رکن بھی تھے، انہیں تاریخ کے علاوہ مظلوم طبقوں کے لیے قلم اٹھانے کی وجہ سے شہرت حاصل تھی۔

ان کے انتقال کے حوالے سے ڈان نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اختر بلوچ کے قریبی ساتھی اور سینئر فوٹوگرافر اختر سومرو نے بتایا کہ اختر بلوچ گزشتہ چند روز سے بخار اور جسمانی درد میں مبتلا تھے۔

ہفتہ کے روز سینئر صحافی سعید بلوچ نے ان سے ملاقات کی اور انہیں ہسپتال لے گئے جہاں ان کے تمام ٹیسٹ اور ایکسرے ٹھیک قرار دیے گئے، تاہم ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کا بلڈ پریشر بہت کم ہے۔

تاہم بعد میں اختر بلوچ کے نوجوان بیٹے نے ہفتے کی رات 11 بج کر 45 منٹ پر سعید بلوچ کو فون کیا اور یہ افسوسناک خبر سنائی کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔

اختر سومرو نے بتایا کہ اختر بلوچ مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ رہے، وہ حیدر آباد پریس کلب، سندھ میں کوآرڈینیٹر ایچ آر سی پی، سربراہ اسپارک، بچوں کے حقوق کی این جی او اور ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک رہے۔

اختر بلوچ کے پرانے کراچی کی تاریخ، سندھ کی شخصیات اور دیگر معاملات کے بارے میں  2 کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں جن میں ‘کرانچی والا’ اور تیسری جنس شامل ہے، ان کی کتاب تیسری جنس مخنث افراد کی زندگی پر کی گئی تحقیق پر مبنی ہے،  وہ مختلف جامعات کےساتھ بطور وزٹنگ فیکلٹی ممبرز بھی منسلک تھے۔

اختر سومرو کا کہنا تھا کہ ان دنوں وہ اردو ادب میں انسانیت کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رہے تھے، مرحوم اختر بلوچ نے سوگواران میں بیوہ اور 3 بچے چھوڑے ہیں، ان کی عمر 50 سال تھی۔

اختر بلوچ نے وفات سے چند دن قبل گزشتہ ہفتے ہونے والی بارشوں کے دوران کراچی پریس کلب میں رات دیر گئے سندھی صحافیوں سے بات کی تھی، جس میں انہوں نے خود کو زائد العمر قرار دیتے ہوئے اپنی موت کی پیش گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ نئی نسل کے ابھرتے ہوئے صحافی یہاں موجود رہیں گے مگر ان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ کل رہیں یا نہ رہیں۔

اختر بلوچ نے اپنے موت سے متعلق مذکورہ بات کراچی پریس کلب کے ارکان میر کیریو، شاہد میرانی اور اعجاز کورائی سمیت دیگر سے بارشوں کے دوران بات کرتے ہوئے کی تھی اور ان کی ویڈیواعجاز کورائی کی جانب سے فیس بک پر شیئرکیے جانے پر وائرل ہوگئی اور لوگ آبدیدہ ہوگئے۔

اختر بلوچ کے انتقال پر جہاں صحافی برادری افسردہ دکھائی دی، وہیں حکومتی، سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی موت کو صحافت کے لیے نقصان قرار دیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی ان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ایک اچھے صحافی سے محروم ہوگیا، علاوہ ازیں متعدد صحافیوں اور دوستوں نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔