سندھ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں نمایاں اضافہ، گینگ ریپ کے واقعات بڑھ گئے

فائل فوٹو: مشال بلوچ

سندھ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ نوٹ کیا گیا جب کہ صوبے بھر میں خواتین پر تشدد، ان کے ریپ اور گینگ ریپ کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے جنوری 2021 سے جون 2022 تک کی رپورٹ جاری کردی۔

حیدرآباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب کے دوران کمیشن کی چیئرپرسن جسٹس ریٹائرڈ ماجدہ رضوی نے مہمان خصوصی جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ندیم اختر کے ہمراہ سالانہ رپورٹ برائے سال 2021 اور 2022 کی رونمائی کی۔

 رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ صوبے بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں نمایاؐں اضافہ ہوا، ڈیڑھ برس کے دوران سندھ میں خواتین پرتشدد کی 248 شکایات موصول ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق خواتین سے اجتماعی زیادتی یا زیادتی کی 22 شکایات سامنے آئیں جبکہ خواتین کے قتل کے 16، کاروکاری کے 5 اور گمشدگی کے 7 واقعات رپورٹ ہوئے۔

 

 

سالانہ رپورٹ کے مطابق کمیشن نے جنوری 2021 سے جون2022 تک 738 شکایات کا ازالہ کیا۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 30 فیصد کیسز کراچی میں رپورٹ ہوئے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کراچی میں 221 کیسز، حیدرآباد سے 49 اور سکھر سے 46 شکایات موصول ہوئیں۔

ڈیڑھ سال کے دوران خواتین پر تشدد سے متعلق 248 شکایات موصول ہوئیں، خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی یا زیادتی کے 22 شکایات سامنے آئیں جبکہ خواتین کوحراساں کرنے کی 17 اور اغوا کی 11 شکایات کمیشن کوموصول ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خواتین کے قتل کے 16، کارو کاری کے 5 اور گمشدگی کے 7 شکایات رپورٹ کمیشن میں درج کرائی گئیں جبکہ گھریلو تشدد کے 21 کیس رپورٹ ہوئے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہیں۔