سندھ بھر میں مسلسل غیر حاضر رہنے والے ہزار سے زائد ڈاکٹرز برطرف

سندھ حکومت نے ڈیوٹیوں سے مسلسل غیر حاضر رہنے اور متعدد نوٹسز بھجوانے کے باوجود جواب جمع نہ کروانے والے صوبے بھر کے ایک ہزار سے زائد ڈاکٹرز کو نوکریوں سے برطرف کردیا۔

محکمہ صحت کی جانب سے صوبے بھر کے غیر حاضر رہنے والے ڈاکٹرز کو برطرف کرنے کا نوٹی فکیشن 15 اگست کو جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ اسپتالوں اور میڈیکل کالجز کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام غیر حاضر ڈاکٹرز کی برطرفی کی رپورٹ دو دن کے اندر محکمے میں جمع کروائی جائے۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ حیدرآباد سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق برطرف ہونے والے ایک ہزار 73 ڈاکٹرز 17 ویں گریڈ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا تعلق صوبے کے تمام اضلاع سے ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق برطرف کیے گئے ڈاکٹرز دارالحکومت کراچی کے تمام اضلاع سمیت حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن کے مختلف اسپتالوں اور میڈیکل کالجز میں تعینات تھے۔

 

برطرفی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا—محکمہ صحت سندھ

برطرف کیے گئے 17 ویں گریڈ کے ڈاکٹرز میں سندھ سروسز اسپتال کراچی کے ڈاکٹرز سمیت پولیس سرجن کے دفاتر میں تعینات ڈاکٹرز بھی شامل ہیں جب کہ متعدد ڈاکٹرز صوبے کے مختلف میڈیکل کالجز سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

ڈاکٹروں کی برطرفی کے حوالے سے محکمہ صحت کے افسران کے مطابق تمام ڈاکٹرز گزشتہ دو سال سے مسلسل غیر حاضر تھے اور غیر حاضر رہنے پر متعدد نوٹس بھی بھجوائے گئے تھے مگر انہوں نے کوئی جواب جمع نہیں کروایا۔

مسلسل غیر حاضر رہنے اور جواب جمع نہ کروائے جانے پر صوبائی حکومت نے ڈاکٹرز کو برطرف کردیا۔

سندھ حکومت پہلے بھی غیر حاضر رہنے والے ڈاکٹرز کو برطرف کر چکی ہے اور صوبے میں پہلے ہی ڈاکٹرز کی شدید قلت ہے۔

صوبے کے متعدد اسپتالوں میں مختلف بیماریوں کے ماہر ڈاکٹرز موجود نہیں جب کہ کئی اضلاع میں جنرل سرجن اور گائناکولوجسٹ تک تعینات نہیں۔