کراچی اور حیدرآباد میں دوسری بار بلدیاتی انتخابات ملتوی

دونوں ڈویژنز میں 28 اگست کو انتخابات ہونے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سندھ بھر میں شدید بارشوں کے پیش نظر حیدرآباد اور کراچی ڈویژن میں دوسری بار بھی بلدیاتی انتخابات کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔

کراچی اور حیدرآباد ڈویژن کے 16 اضلاع میں ابتدائی طور پر 24 جولائی کو بلدیاتی انتخابات ہونے تھے مگر بارشوں کے پیش نظر انہیں 28 اگست تک ملتوی کیا گیا تھا مگر اب بھی صوبے بھر میں بارشوں کے ہونے کی وجہ سے انہیں ایک بار پھر ملتوی کردیا گیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے 24 اگست کو جاری بیان کے مطابق شدید بارشوں کی وجہ سے 28 اگست کو کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، کیوں کہ پولنگ کے دن بھی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جب کہ حیدرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع اس وقت سیلاب سے شدید متاثر ہیں اور کراچی میں بھی بارشوں کے پیش نظر انتخابات کے انتظامات کرنے میں مشکل پیش آئیں گی۔

بیان میں اگرچہ 28 اگست کو ہونے والے انتخابات کو ملتوی کرنے کی تصدیق کی گئی، تاہم ان کے انعقاد کی تاریخ نہیں دی گئی۔

بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے انعقاد کے بارے میں بریفینگ دی، سیکریٹری الیکشن کمیشن نے ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں 24 تا 26 اگست کے درمیان شدید بارشیں ہوں گی، اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ بارشیں 27 اور 28 اگست کو بھی ہو سکتی ہیں، اور ان بارشوں کے اثرات انتخابات کے دن بھی پڑیں گے۔

 

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اجلاس میں بتایا کہ چیف سیکریٹری سندھ ، آئی جی سندھ نے تحریری طور پر بتایا ہے کہ تمام انتظامیہ، پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے ادارے سندھ میں سیلاب متاثرین کی امدادی کا روائیوں اور متاثر ہ علاقوں میں خوراک کی ترسیل میں مصروف ہیں جبکہ سیلا ب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے دوران امن وامان قائم رکھنے کے لئے بھی فورس کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ ان حالات میں پولیس کی نقل و حمل ممکن نہیں ہے ۔

آئی جی سندھ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ تقریباً 50 ہزار پولیس اہلکار کراچی ڈویژن کے انتخابات کے لیے متعین کیے گئے تھے، جس میں سے 33 ہزار کراچی میں موجود تھے جبکہ باقی 16 ہزار اہلکاروں کو اندرون سندھ سے بلوانا تھا تاکہ پرامن انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ موجودہ سیلابی صورتحال میں اب اندرون سندھ سے پولیس کی اضافی نفری کراچی بلدیاتی انتخابات میں تعینات نہیں کی جا سکتی، جن کی تعیناتی انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے اشد ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ رینجرز نے پولیس کے ساتھ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر ڈیوٹیاں سرانجام دینی تھی جبکہ پاک فوج نے بھی اس میں سپورٹ کرنا تھا، وہ اب امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں لہذا رینجرز اور پاک فوج کی انتخابات کے دوران دسیتابی بھی ممکن نہیں ہوگی۔

صوبائی الیکشن کمشنر نے اجلاس میں مزید بریفینگ دی کہ پولنگ میٹریل اور پولنگ اسٹاف، خصوصاً خواتین کے پولنگ اسٹاف کی ٹرانسپورٹ کرنے کے علاوہ دیگر لاجسٹکس مسائل بھی درپیش ہوں گے، کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر 4 ہزار 900 پولنگ اسٹیشنز پر 63 ہزار پولنگ اسٹاف کو پولنگ اسٹیشنز پہنچانے کے بھی شدید مسائل ہوں گے اور درخواست کی کہ کراچی ڈویژن کے انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔

یاد رہے کہ سندھ کے دیگر اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ جون کے وسط میں منعقد کیا گیا تھا، جس کے نتائج کے مطابق زیادہ تر علاقوں میں صوبائی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو اکثریت حاصل ہے، تاہم بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے حتمی نتائج بھی جاری ہونا ابھی باقی ہیں۔