سندھ کے سیلاب متاثرین کو ’قبضا خور‘ کہنے پر مصطفیٰ کمال پر تنقید

لوگوں نے مصطفیٰ کمال کو آڑے ہاتھوں لیا—اسکرین شاٹ

پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے رہنما سید مصطفیٰ کمال کو سندھ کے سیلاب متاثرین کو قبضا خور قرار دینے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صوبے کے زیادہ تر ٹوئٹر صارفین نے مصطفیٰ کمال کے بیان کو تنگ نظری اور لسانی فسادات پھیلانے کی کڑی قرار دیتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ کراچی صوبائی دارالحکومت ہے اور پورے صوبے کے لوگ یہاں آکر آباد ہو سکتے ہیں۔

 

ٹوئٹر صارفین نے مصطفیٰ کمال کی جانب سے 27 اگست کو میڈیا سے کی گئی بات کی کلپ شیئر کرتے ہوئے ان کے بیان کو نامناسب قرار دیا۔

مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اگرچہ صوبے میں بلدیاتی نظام اور انتخابات کی بات کی، تاہم انہوں نے اس دوران سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے کراچی آکر پناہ لینے کے معاملے پر بھی بات کی۔

 

انہوں نے براہ راست سیلاب متاثرین کو قبضا مافیا کہنے کے بجائے کہا کہ متاثرین کے نام پر کچھ قبضا خور سرگرم ہوگئے ہیں اور وہ متاثرین کی آڑ میں دارالحکومت کی زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق متاثرین جہاں چاہیں رہیں مگر ان کے نام پر جو قبضا مافیا سرگرم ہوگئے ہیں، ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

لوگوں نے مصطفیٰ کمال کی مذکورہ کلپ شیئر کرتے ہوئے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور لکھا کہ متاثرین کو قبضہ مافیا قرار دیا جا رہا ہے۔

صحافی قاضی آصف نے مصطفیٰ کمال کے بیان پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے لکھا کہ اس دکھ کی گھڑی میں ان کے الفاظ کے زخم  شاید کوئی نہ بھولے. اس مشکل گھڑی میں بھی انہیں سیاست سوجھی!؟  

انہوں نے مزید لکھا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس درد کے موسم میں متاثرین کو اس طرح خوش کہتے جیسےکبھی، اسی دھرتی کے لوگوں نے انہیں کیا تھا.

براڈکاسٹر اور سماجی کارکن ماجد مقصود نے بھی مصطفیٰ کمال کو آڑے ہاتھوں لیا اور لکھا کہ پی ایس پی چیئرمین کا بیان تعصب پر مبنی ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ کس کے اشارے پر ایسی باتیں کر رہے ہیں اور یہ اردو بولنے والے لوگ اس تنگ نظر شخص کو مسترد کر چکے ہیں، یہ کونسلری کی ایک سیٹ تک نہیں جیت پاتے۔

 

آزاد علی نامی صارف نے لکھا کہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے متاثرین پر قبضے کے الزامات  لگائے جا رہے ہیں،

انہوں نے لکھا کہ قبضے کے الزامات ان پر لگائے جا رہے ہیں کی یہ دھرتی ہے اور لگا وہ رہے ہیں جن کو ان دھرتی والوں نے پناہ دی تھی، انہوں نے مزید لکھا کہ عجیب مذاق ہے اگر آپ لوگ، لوگوں کی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم خاموشی اختیار کر سکتے ہیں اتنی نفرت ان لوگوں سے جو پہلے ہی متاثرین ہیں مصطفی کمال شرم کریں شرم!۔

ان کے علاوہ بھی دیگر لوگوں نے مصطفیٰ کمال کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کے بیانات پر ریاستی اداروں کو نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ صوبے کے بعض علاقوں سے کچھ سیلاب متاثرین دو دن پہلے دارالحکومت پہنچے تھے، صوبے بھر میں حالیہ بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے سوا کروڑ لوگ متاثر ہوچکے ہیں اور 20 لاکھ سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔