سیلابی پانی کے این شاہ، میہڑ اور جوہی کی حدود میں داخل

سیلابی پانی درجنوں دیہات کو ڈبوتا شہروں کے قریب پہنچ چکا—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب

خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان سے سیلابی ریلے سندھ میں داخل ہونے کے بعد ضلع دادو کے تین تعقلہ ہیڈ کوارٹرز خیرپور ناتھن شاہ (کے این شاہ) جوہی اور میہڑ شہر کی حدود میں داخل ہوگئے، جس سے تینوں شہروں کا کئی علاقوں سے زمینی رابطہ کٹ گیا۔

تینوں شہروں سے سے گزشتہ شب ہی لوگوں کو نکل جانے کی ہدایات کی گئی تھیں مگر سندھ حکومت نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے کوئی انتظامات تک نہ کیے تھے۔

 

تینوں شہروں کے کم از کم 7 لاکھ افراد حکومتی الرٹ کے بعد ہنگامی صورت حال میں نکلے تھے، جس سے شہر اور اس کے آس پاس میں خوف بھی پھیل گیا تھا جب کہ بچوں اور خواتین پر سکتا طاری ہوگیا تھا۔

انتظامیہ نے تینوں شہروں کو بچانے کے لیے بچائو بند بھی باندھنا شروع کردیا تھا، تاہم سیلابی پانی تینوں شہروں کی حدود میں داخل ہوگیا اور سیلاب سے تینوں شہروں کے قریبی درجنوں گائوں ڈوب گئے۔

 

تینوں شہروں کے لوگوں کو محفوظ مقام مہیا نہ کرنے پر بھی لوگوں نے سوشل میڈیا پر سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

سپریو بند کو گوٹھ بہادر پور کے قریب شگاف پڑنے  کے بعد تینوں شہروں کی حدود میں سیلابی پانی داخل ہوا اور شگاف کو تاحال بند نہیں کیا جا سکا۔

 

دوسری جانب منچھر جھیل پر بھی پانی کی زائد مقدار کے بعد آس پاس کے علاقوں میں سیلاب آنے کا امکان پیدا ہوگیا۔