سندھ میں ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کا اشتہارات کے لیے رجسٹریشن کا آغاز

—فوٹو: اسٹاک

صوبہ سندھ ملک وہ پہلا صوبہ بن گیا، جس نے تمام خود مختار نیوز آئوٹ لیٹس یا ویب سائٹس سمیت سوشل میڈیا پیجز اور انفلوئنسرز کو سرکاری اشتہارات فراہم کرنے کے لیے ان کی رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا۔

محکمہ اطلاعات سندھ کی جانب سے 18 اگست کو مختلف اخبارات میں ویب سائٹس، سوشل میڈیا پیجز اور انفلوئنسرز کو رجسٹریشن کے لیے درخواستیں جمع کروانے کی تجویز دی گئی اور اس ضمن میں پالیسی کی بھی وضاحت کی گئی۔

رجسٹریشن پالیسی کے مطابق کرنٹ افیئرز، انٹرٹینمنٹ سمیت دیگر مسائل پر رپورٹنگ کی اشاعت کرنے والی وہ تمام ویب سائٹس رجسٹریشن کے لیے اہل ہوں گی، جنہیں دو سال گزر چکے ہیں اور ان کے ماہانہ پیج ویوز 25 ہزار تک ہیں۔

اسی طرح سوشل میڈیا پیجز کی رجسٹریشن کے لیے بھی ان کے دو سال پرانے ہونے سمیت فیس بک پیج کے لیے 15 ہزار فالوئرز یا لائیک جب کہ ٹوئٹر کےلیے محض 5 ہزار فالوئرز کی شرط رکھی گئی ہے۔

محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق انسٹاگرام کی رجسٹریشن کے لیے بھی 5 ہزار فالوئرز کی شرط ہے اور اکائونٹ کا دو سال پرانا ہونا بھی لازمی ہے، البتہ یوٹیوب کے لیے ایک سال پرانے اکائونٹ کی شرط رکھی گئی ہے، تاہم اس کے سبسکرائبرز کی تعداد 15 ہزار تک ہونی چاہیے۔

یوں پالیسی کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسرز یعنی انفرادی افراد کو بھی رجسٹریشن کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایسے افراد کا سوشل میڈیا اکائونٹ 18 ماہ پرانا ہونا چاہیے اور اس کے فالوئورز کی تعداد 35 ہزار تک ہونی چاہیے۔

 

محکمہ اطلاعات کی جانب سے 18 اگست 2022 کو اشتہار جاری کیا گیا—اسکرین شاٹ/ روزنامہ جنگ

یوں پالیسی سے ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں بھی مستفید ہو سکیں گی اور ایسی ایجنسیز جو دو سال پرانی ہیں اور انہوں نے 10 لاکھ تک اشتہارات ویڈیو، بینرز یا آڈیو بنا رکھے ہیں تو وہ بھی رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔

رجسٹریشن کے لیے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) سمیت سیلز ٹیکس کے گوشوارے اور رجسٹریشن کے دیگر کاغذات بھی مانگے گئے ہیں، تاہم ساتھ ہی واضح کیا گیا ہے جن پیجز پر سیلز ٹیکس نافذ نہیں ہوتا، انہیں ایسے دستاویزات جمع کروانے کی ضرورت نہیں۔

پالیسی اشتہار میں بتایا گیا کہ محکمہ اطلاعات کے پاس رجسٹرڈ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کو ہی سندھ حکومت کے تمام محکموں، ڈویژنز اور خود مختار اداروں کے اشتہارات دیے جائیں گے اور حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی پیج یا ویب سائٹ کی رجسٹریشن منسوخ کرے۔

پالیسی کےمطابق ویب سائٹس یا پیجز کو اشتہارات دینےکا فیصلہ ان کی کارکردگی یعنی پیج ویوز کے حساب سے ہوگا اور تمام اداروں کو پیج ویوز کے لیے گوگل اینالیٹک تک محکمہ اطلاعات کو رسائی دینا ہوگی اور یہ سسٹم صرف محکمہ اطلاعات ہی دیکھے گا اور اسی حساب سے ادارے کے لیے اشتہارات کے دام اور کوٹا کا تعین کرے گا۔

تمام دلچسپی رکھنے والے پیجز اور اداروں کو محکمہ اطلاعات سندھ کے دارالحکومت کراچی میں موجود دفتر میں درخواستیں جمع کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔

مذکورہ اعلان اور پالیسی کے بعد صوبہ سندھ ملک کا پہلا صوبہ بن جائے گا، جہاں ویب سائٹس کی رجسٹریشن ہوگی اور انہیں اشتہارات بھی جاری کیے جائیں گے۔

صوبہ سندھ سے قبل اگرچہ وفاقی حکومت نے سال 2021 میں سوشل میڈیا اشتہارات کی پالیسی کا اعلان کیا تھا مگر وفاقی حکومت نے مذکورہ پالیسی کو 2022 میں برقرار نہیں رکھا اور وہاں ویب سائٹس وغیرہ کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جا رہی۔